بنگلورو،5/جنوری (ایس او نیوز)وزیراعلیٰ بی ایس ایڈی یورپا کو بدنام کرکے اقتدار سے بے دخل کرنے کے مقصد سے ہی وزیر اعظم نریند رمودی ریاست کو جاری کی جانے والی امدادی رقوم میں کٹوتی لارہے ہیں، اس قسم کا گمبھیر الزام سابق وزیر اعلیٰ سدارامیا نے عائد کیا - آج یہاں اخباری نمائندوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گزشتہ سال ریاست میں رونما سنگین سیلاب سے تقریبا ایک لاکھ کروڑروپے خسارہ کا اندازہ لگایاگیاہے، مگر ایڈی یورپا کے مطابق خسارہ کا اندازہ 50/ ہزارکروڑروپئے ہے،ریاستی حکومت نے مرکزی حکومت سے صرف 30/ ہزار کروڑ روپے امدادجاری کرنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن مرکزی حکومت صرف 250/ کروڑروپے جاری کرتے ہوئے ایڈی یورپا کا نام خراب کرنے کی کوشش کررہی ہے، سیاسی حلقوں میں یہ گمان یقین کی حد تک کیاجارہا ہے کہ مرکزی حکومت ایڈی یورپا کو اقتدار سے بے دخل کرنے پر تلی ہوئی ہے، فی الحال ریاستی بی جے پی یونٹ کا ایک گروہ ایڈ ی یورپا کو وزیراعلیٰ کے عہدہ سے ہٹانے کے لیے سرتوڑ کوشش میں لگا ہواہے، اس رسہ کشی میں ریاست کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے - انہوں نے مزید کہا کہ جب کرناٹک سنگین سیلابی صورتحال سے دوچار تھا اس وقت وزیراعظم کو دست تعاون درازکرنا چاہئے تھا، منموہن سنگھ کے دوراقتدار میں بھی ریاست میں سیلاب آیا تھاتو انہوں نے دو دنوں کے اندر سیلاب زدہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا اورراحتی امداد جاری کی-لیکن مودی نے ریاست کو نظر انداز کیا اورچندریان کا نظارہ کرنے اسروگئے،ہوا یو ں کہ چندریا ن - 2 ناکام ہوگیا - وزیر اعظم ان سے ملاقات کے لیے ریاستی وزراء کو موقع نہیں دے رہے ہیں اوراپوزیشن لیڈرز کو بھی ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی ہے، مودی کو کم سے کم ہمدردی اورخیر سگالی کا اظہار کرناچاہئے تھالیکن انہوں نے یہ بھی نہیں کیا - سدارامیا نے وعدے وفا نہ کرنے پر مودی کو تنقید کا نشانہ بنایا کہا کہ یادکرومودی نے 2018ء میں عوام سے کیا کیا وعدے کئے تھے، جنگی طیارے اڑان بھرنے کی بات کی تھی لیکن وہ خود ذاتی طورپر اڑان بھرتے ہوئے مختلف ممالک کا چکر کاٹتے رہ گئے مگر جنگی طیاروں کو اڑا ن بھرنے کا موقع فراہم نہیں ہو ا-مودی نے کہا تھا کہ ریاست اورمرکزمیں بی جے پی حکو مت ہو تو مواقع کے دروازے خودبہ خود کھل جائیں گے مگر اب تک کوئی دروازہ نہیں کھلا، یہی وجہ ہے کہ میں ایڈی یورپا کو کمزوراورلاغر وزیراعلیٰ سے خطاب کرتا ہوں - سی ایل پی قائد سدارامیا نے مزید کہا کہ کل وزیر اعظم ٹمکورآئے ہوئے تھے اس وقت وزیراعلیٰ نے جو کچھ ان سے مطالبہ کیا اورجس طرف ان کی توجہ مبذول کرنے کی کوشش کی اس پر مودی نے بالکل توجہ نہیں دی -کرناٹک دورہ پر آئے ہوئے وزیراعظم کو ریاست کی ترقی اورراحتی امداد کے سلسلہ میں خطاب کرناچاہئے تھا مگرانہوں نے ٹمکور میں مٹھ کے طلبہ کے سامنے پاکستان کے سلسلہ میں بات کی، وزیراعظم کے طورپر ان کو کیا باتیں کرنی تھیں اورانہوں نے کیا باتیں کیں - انہوں نے مزید کہا کہ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے وزیراعظم ٹوئٹ کرتے رہتے ہیں مگر ریاست میں سنگین سیلابی صورتحال کے موقع پر انہوں نے ہمدردی اورخیرسگالی کے طورپر بھی ٹوئٹ نہیں کیا، جو نہایت افسوس کی بات ہے -